پٹریوں کی صدا: کراچی ٹرام کی وہ کہانی جو دھویں میں گم ہو گئی

دوستو اگر ہم آج کے کراچی کا تصور کریں تو کانوں میں انجنوں کا شور، بسوں کے پریشر ہارن اور سڑکوں پر بے ہنگم ٹریفک کی تصویر ابھرتی ہے۔ مگر اس شہر کی تاریخ کو اگر کھنگالا جائے اور تھوڑا پیچھے پلٹیں تو صدر اور ایم اے جناح روڈ (سابقہ بندر روڈ) پر پٹریوں پر گھومتے پہیوں کی ہلکی سی صدا اور گھنٹی کی مانوس آوازیں سنائی دیتی تھی۔ یہ کراچی کی ٹرام تھی۔

جب شہر نے پہلی بار پٹری دیکھی (1885ء کا آغاز)

کراچی میں ٹرام سروس کا آغاز برطانوی دور میں ہوا۔ 20 اپریل 1885ء کو جب میونسپل کارپوریشن نے ‘ایسٹ انڈیا ٹرام ویز کمپنی’ کے ساتھ مل کر اس سروس کا افتتاح کیا تو یہ خطے کے لیے ایک بالکل نیا تجربہ تھا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ابتدا میں یہ ٹرام بھاپ کے چھوٹے انجنوں سے چلائی گئی تھی۔ مگر بھاپ کے شور اور دھوئیں نے تنگ بازاروں کے تاجروں اور عام راہگیروں کو سخت پریشان کیا، یہاں تک کہ سڑک پر چلنے والے گھوڑے بپھر جایا کرتے تھے۔ عوامی شکایت پر جلد ہی یہ طریقہ بدل دیا گیا اور بھاپ کے انجن ہٹا کر اِن ٹرام کے آگے گھوڑے جوت دیئے گئے۔ یہ گھوڑا ٹرام کافی عرصے تک صدر سے کیماڑی کے درمیان کراچی کی سڑکوں پر گامزن رہی۔

پٹرول انجن اور ‘محمد علی ٹرام ویز کمپنی’

وقت بدلا تو سواری کا انداز بھی بدلا۔ 1909ء سے 1912ء کے دوران جان ڈکسن کارٹر نے پٹرول سے چلنے والے موٹر انجن متعارف کروائے، جس سے ٹرام کی رفتار اور گنجائش دونوں میں اضافہ ہوا جو کہ اہلِ علاقہ کیلئے ایک بہت مثبت اضافہ تھا۔

قیامِ پاکستان کے بعد 1949ء میں یہ باگ دوڑ ایک مقامی بزنس مین محمد علی فضل علی کے ہاتھوں میں آئی اور کمپنی کا نام محمد علی ٹرام ویز کمپنی (MTC) پڑ گیا۔ اس دور میں ٹرام کراچی کے متوسط طبقے، طلبا اور دکانداروں کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی صورت اختیار کر چُکی تھی۔

  • کرایہ: چند آنے، جو جیب پر کبھی بھاری نہیں پڑتے تھے
  • ڈیزائن: کھلی کھڑکیاں، جہاں سے سمندری ہوا سواروں کے چہروں کو چھوتی گزرتی تھی۔
  • راستے: صدر، کینٹ، بولٹن مارکیٹ، کیماڑی اور گاندھی گارڈن (چڑیا گھر) تک کا باقاعدہ جال بچھا ہوا تھا۔

اس دور کی تصاویر دیکھیں تو ٹرام کے اطراف تیل، چائے اور سینما کے اشتہارات لگے ہوتے تھے، جو اس دور کی معاشی زندگی کا زندہ ثبوت تھے۔

وہ آخری گھنٹی: ٹرام بند کیوں ہوئی؟

1970ء کی دہائی تک پہنچتے پہنچتے کراچی ایک چھوٹے پرسکون ساحلی شہر سے ایک بے پناہ پھیلتے ہوئے بے ہنگم بڑے شہر میں تبدیل ہو رہا تھا۔ ٹریفک میں گاڑیوں، رکشوں اور تیز رفتار بسوں کا اضافہ ہونے لگا۔

پٹریوں پر چلنے والی دھیمی ٹرام کو “ٹریفک کی روانی میں رکاوٹ” سمجھا جانے لگا۔ تنگ سڑکوں پر حادثات کے خدشات اور جدید تقاضوں کے نام پر حکومتی توجہ بسوں اور سڑکیں چوڑی کرنے پر مرکوز ہو گئی۔ بالآخر 30 اپریل 1975ء کی شام ٹرام نے اپنا آخری چکر لگایا۔ اگلی صبح پٹریاں ویران تھیں اور وہ گھنٹی ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئی۔

ایک حسرت جو باقی ہے

دنیا کے وہ تمام بڑے شہر جنہوں نے ستر کی دہائی میں ٹرام کو پرانی ٹیکنالوجی سمجھ کر ہٹایا تھا—خواہ استنبول ہو، میلبورن ہو یا یورپی دارالحکومت—وہ سب آج آلودگی اور ٹریفک سے نجات کے لیے دوبارہ لائٹ ریل اور ٹرام کے ماڈل کی طرف لوٹ چکے ہیں۔

کراچی کی ٹرام نہ دھواں دیتی تھی، نہ شور مچاتی تھی اور نہ ہی مسافروں کو لٹکا کر حادثات کی نذر کرتی تھی۔ آج جب ہم اربوں روپے کی لاگت سے بی آر ٹی اور میٹرو کے پل بناتے ہیں، تو صدر کی پرانی سڑکوں کو دیکھ کر یہ احساس جاگتا ہے کہ ترقی شاید نئی چیزیں لانے کا نام نہیں، بلکہ اپنے ہی اچھے اور پروقار ماضی کو سنبھال کر چلنے کا نام ہے۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Sign In

Register

Reset Password

Please enter your username or email address, you will receive a link to create a new password via email.