The Legacy of Mama Parsi: ماما پارسی گرلز سیکنڈری اسکول

کراچی کی ایم اے جناح روڈ سے گزرتے ہوئے شاید آپ کی نظر بھی اس پرانی، پروقار عمارت پر پڑی ہو جو برسوں سے خاموشی سے اپنی کہانی سنا رہی ہے۔ یہ محض ایک اسکول کی عمارت نہیں، بلکہ اس شہر کی ان چند جگہوں میں سے ایک ہے جہاں عورت کی تعلیم کا خواب سب سے پہلے حقیقت بنا۔ یہ ہے ماما پارسی گرلز سیکنڈری اسکول — اور اس کی داستان صرف اینٹوں اور دیواروں کی نہیں، بلکہ ایک پوری برادری کے جذبے، ایک محب وطن رہنما کی دوراندیشی، اور ان گنت بچیوں کے خوابوں کی ہے۔

ایک چھوٹی سی شروعات، ایک بڑا مقصد

اس تعلیمی سفر کا آغاز یکم اپریل 1918 کو ہوا۔ اس کے بانی تھے کراچی کے پہلے میئر، جمشید نسروانجی مہتا — وہ شخصیت جن کا نام آج بھی کراچی کی تعمیر و ترقی کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے محسوس کیا کہ اگر کسی قوم کو آگے بڑھنا ہے تو اس کی بیٹیوں کو بھی علم کی روشنی ملنی چاہیے، اور اسی سوچ نے اس ادارے کی بنیاد رکھی۔

شروع میں کلاسیں “بائے وے جی اسکول” میں لگیں، پھر جون 1919 میں ماما مینشن منتقل ہو گئیں۔ لیکن اصل منزل ابھی باقی تھی۔

پارسی برادری کی فیاضی جس نے خواب کو حقیقت بنایا

یہ ادارہ اکیلے کسی ایک شخص کی کاوش نہیں تھا، بلکہ پوری پارسی برادری کے دل کھول کر دیے گئے عطیات کا نتیجہ تھا۔ پوچا جی ٹرسٹ نے اس مقصد کے لیے 13 لاکھ 35 ہزار روپے دیے، ادلجی دشا خاندان نے ہاسٹل کے لیے 75 ہزار روپے عطیہ کیے، جبکہ اردشیر ہرمزجی ماما نے ایک لاکھ روپے کا خطیر عطیہ دیا — اور یہی وجہ ہے کہ اسکول کو آج تک ان ہی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

17 جنوری 1920 کو موجودہ عمارت کا سنگِ بنیاد رکھا گیا، جو 26 جنوری 1925 کو مکمل ہوئی۔ اور یکم اپریل 1925 سے اسی عمارت میں باقاعدہ کلاسوں کا آغاز ہوا — وہی عمارت جو آج بھی اپنی اصل شان کے ساتھ کھڑی ہے۔

جب قائدِ اعظم کی ایک درخواست نے تاریخ بدل دی

ابتدا میں یہ اسکول صرف پارسی لڑکیوں کے لیے مخصوص تھا۔ مگر تاریخ نے ایک خوبصورت موڑ لیا جب قائدِ اعظم محمد علی جناح نے خود درخواست کی کہ اس کے دروازے مسلمان طالبات کے لیے بھی کھول دیے جائیں۔ یہ محض ایک سفارش نہیں تھی — یہ ایک ایسا لمحہ تھا جس نے کراچی کی مسلمان خواتین کے لیے جدید اور معیاری تعلیم کی ایک بالکل نئی راہ ہموار کر دی۔ آج سوچیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ قیامِ پاکستان سے پہلے کی اس درخواست نے کتنی بچیوں کی زندگیوں کا رخ بدل دیا ہوگا۔

دو عظیم خواتین کی آمد، دو یادگار لمحے

قیامِ پاکستان کے بعد مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح نے خود اسکول کا دورہ کیا، اساتذہ اور منتظمین سے ملاقات کی، اور سالانہ تقریب میں طالبات کی ٹرافیاں اور شیلڈز دیکھ کر ان کی حوصلہ افزائی کی۔ ان کی اس پرخلوص شرکت نے اس تاریخی ادارے کی تعلیمی خدمات پر اعتماد کی مستقل مہر ثبت کر دی۔

کچھ عرصہ بعد خاتونِ اول بیگم رعنا لیاقت علی خان بھی یہاں تشریف لائیں۔ انہوں نے کلاس رومز میں یونیفارم میں ملبوس بچیوں سے محبت بھری گفتگو کی اور ان کی کاپیاں اور کتابیں دیکھیں۔ خواتین کی خودمختاری کی علمبردار ایک شخصیت کی اس اسکول میں آمد نے طالبات میں تعلیم اور خود اعتمادی کا ایک نیا ولولہ پیدا کر دیا۔

کردار سازی: ہاؤس سسٹم کی بنیاد

1943 میں چار ہاؤسز — ماما، پوچا جی، کنٹریکٹر اور دنشا — پر مشتمل ہاؤس سسٹم رائج کیا گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس نظام کی بنیاد محض مقابلے پر نہیں بلکہ چار اقدار پر رکھی گئی: عاجزی، سخاوت، محنت اور ایمان۔ یہ وہ سبق تھے جو کتابوں کے علاوہ ہر طالبہ کی شخصیت کا حصہ بنانا مقصود تھا۔

جب تعلیم صرف کتابوں تک محدود نہ تھی

ماما پارسی اسکول کے شاندار ماضی کا ایک منفرد اور خوبصورت پہلو اس کی “ڈومیسٹک اکمپلشمنٹ کلاسز” تھیں۔ یہاں بچیوں کو صرف کتابی علم تک محدود نہیں رکھا جاتا تھا، بلکہ باورچی خانے میں کھانا پکانا، بیکنگ، پیڈل مشینوں پر سلائی، کشیدہ کاری اور کپڑے دھونے اور استری کرنے کے عملی آداب بھی سکھائے جاتے تھے۔

اور یہیں پر بس نہیں — خواتین کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے اور دفتری دنیا کے قابل بنانے کے لیے ٹائپ رائٹرز پر باقاعدہ ٹائپنگ اور سیکریٹیریل مہارتوں کی تربیت بھی دی جاتی تھی۔ ذرا سوچیں، آج سے دہائیوں پہلے ایک ایسا تعلیمی ادارہ جو بچیوں کو گھریلو مہارتوں کے ساتھ ساتھ پیشہ ورانہ خودمختاری کے لیے بھی تیار کر رہا تھا — یہ اپنے وقت سے کہیں آگے کی سوچ تھی۔ وقت اور جدید نصاب کے تقاضوں کے ساتھ اگرچہ یہ کلاسیں اب بند ہو چکی ہیں، لیکن ان کی یادیں آج بھی اس ادارے کی طالبات کو خود کفیل بنانے کی سنہری کوششوں کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

وہ خواتین جنہوں نے اس ادارے کو سنوارا

مس جے کے کیلی، مس تھامسن، مسز کنٹریکٹر اور مسز زرین تیمورس ماوالوالا جیسی باوقار پرنسپلز کے ہاتھوں سنورنے والا یہ ادارہ آج بھی میٹرک اور کیمبرج سسٹم کے تحت کراچی میں علم اور وقار کی زندہ علامت ہے۔

ایک سو سال بعد بھی روشن

ماما پارسی اسکول کی کہانی ہمیں یہ یاد دلاتی ہے کہ تعلیم کبھی کسی ایک مذہب، برادری یا طبقے کی میراث نہیں رہی۔ ایک پارسی خاندان کی فیاضی، ایک مسلمان رہنما کی دوراندیشی، اور ان گنت اساتذہ کی محنت نے مل کر وہ ادارہ بنایا جو آج بھی کراچی کی بیٹیوں کو روشن مستقبل کی طرف لے جا رہا ہے۔ یہی وہ روح ہے جس کی بدولت ایک صدی گزرنے کے باوجود بھی یہ چراغ بجھنے نہیں پایا۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Sign In

Register

Reset Password

Please enter your username or email address, you will receive a link to create a new password via email.